امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 10 دنوں میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی اور ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو نتائج برے ہوں گے۔
غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ امن کے راستے پر چلے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا نہ جائے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مثبت اور بامعنی بات چیت جاری ہے اور امریکا ایک مؤثر معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 دنوں میں ایران کے بارے میں فیصلہ کن پیش رفت سامنے آ جائے گی۔ “ایران کو معاہدہ کرنا پڑے گا، ورنہ نتائج برے ہوں گے،” انہوں نے واضح کیا۔
غزہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا خطے میں استحکام اور تعمیرِ نو کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی بحالی کے لیے مختلف ممالک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور اب تک 7 ارب ڈالر سے زائد فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ امریکا مزید 10 ارب ڈالر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کو معاہدے کے تحت اپنے ہتھیار حوالے کرنا ہوں گے اور غزہ کو انتہاپسندی اور دہشت گردی سے پاک خطہ بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔ اجلاس کے آغاز سے قبل صدر ٹرمپ نے شرکا سے غیر رسمی گفتگو بھی کی، جس دوران وزیراعظم شہباز شریف سے بھی مختصر تبادلۂ خیال ہوا۔
خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیوں اور سخت بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔


