اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کے بجلی اور گیس کے ٹیرف نظام میں بڑی تبدیلی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت روایتی استعمال (یونٹس) کی بنیاد پر سلیب سسٹم کی جگہ آمدن کی بنیاد پر نیا ماڈل متعارف کرانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ اصلاحات کے تحت سبسڈی کا تعین گھریلو آمدن کی بنیاد پر کیا جائے گا، تاکہ کم آمدن والے طبقات کو زیادہ رعایت دی جا سکے جبکہ صاحبِ حیثیت صارفین کو بتدریج مکمل قیمت ادا کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد توانائی شعبے میں مالیاتی بوجھ کم کرنا اور سبسڈی کے نظام کو زیادہ ہدفی اور مؤثر بنانا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ اصلاحات آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور طے شدہ اہداف کی روشنی میں حتمی شکل دی جا رہی ہیں، جن کا مقصد توانائی کے شعبے میں پائیدار مالی استحکام حاصل کرنا ہے۔
اس سے قبل بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل پر غور کر رہی ہے تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جا سکے اور نظام میں توازن قائم کیا جا سکے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق اگر آمدن کی بنیاد پر سبسڈی کا نظام شفاف اور درست ڈیٹا کی بنیاد پر نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف مستحق طبقے کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ گردشی قرضوں میں کمی اور مالی نظم و ضبط میں بہتری بھی ممکن ہو سکے گی۔ تاہم اس کے مؤثر نفاذ کے لیے مضبوط ڈیٹا بیس اور واضح پالیسی فریم ورک ناگزیر ہوگا۔


