مشرقِ وسطیٰ: ایک بار پھر آگ کے دہانے پر

Date:

تحریر: اشتیاق ہمدانی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے سکیورٹی نظام میں اعلیٰ ترین الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور ریسکیو اداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں: “جنگ کے لیے تیار رہیں”۔

اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ اور اس کی ہنگامی طبی امداد کی سروس Magen David Adom کو ایران کے ساتھ ممکنہ مکمل جنگی صورتحال کے لیے تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی مشینری کو باقاعدہ جنگی حالت میں ڈھالا جا رہا ہے۔

دوسری طرف امریکہ نے خطے میں غیر معمولی عسکری اجتماع شروع کر رکھا ہے۔ بحیرۂ عمان کے قریب امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln پہلے سے موجود ہے جبکہ USS Gerald R. Ford بھی روانہ کیا جا چکا ہے۔

درجنوں جنگی جہاز، ایٹمی آبدوزیں، جدید لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجی خطے میں اتار دیے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے سفارت کاری کو پسِ پشت ڈال کر طاقت کے مظاہرے کو ہی پالیسی بنا لیا گیا ہو۔

ادھر یورپی حلقوں میں بھی خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم Donald Tusk نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ برطانوی اخبار The Guardian کے مطابق انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ خطے کو اس نہج تک پہنچایا کس نے؟ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال کو ترجیح دینا ان کی مستقل حکمتِ عملی رہی ہے۔ عراق پر حملہ، افغانستان میں طویل جنگ، شام میں مداخلت — ہر جگہ “سلامتی” اور “دفاع” کے نام پر ایسے فیصلے کیے گئے جن کے نتائج آج تک خطہ بھگت رہا ہے۔

ایران کے خلاف کھلی فوجی تیاری دراصل دباؤ کی سیاست کا تسلسل ہے۔ یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی ریاست امریکی یا اسرائیلی مفادات کے مطابق نہ چلے تو اسے عسکری طاقت سے جھکایا جا سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل عالمی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

اسرائیل کی پالیسی بھی برسوں سے خطے میں کشیدگی کو ہوا دیتی رہی ہے۔ پہلے سے سلگتے ہوئے ماحول میں مزید فوجی تیاری نہ صرف اشتعال انگیزی ہے بلکہ ایک بڑے تصادم کی بنیاد رکھنا ہے۔ اگر واقعی سلامتی مقصود ہوتی تو مذاکرات، علاقائی ڈائیلاگ اور سفارتی ذرائع کو فوقیت دی جاتی، نہ کہ طیارہ بردار جہازوں اور میزائلوں کو۔

امریکہ اور اسرائیل کی موجودہ حکمتِ عملی طاقت کے زعم کا مظاہرہ ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جس میں عالمی برادری کی رائے، اقوامِ متحدہ کے اصول اور خطے کے کروڑوں انسانوں کی جانیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی پالیسیاں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن کبھی نہیں لا سکتیں۔

اگر طاقت ہی قانون بن جائے تو پھر انصاف اور امن محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو مزید بارود کا ڈھیر بنانے کے بجائے ذمہ دارانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے — لیکن موجودہ منظرنامہ اس کے برعکس تصویر پیش کر رہا ہے۔

(مضمون نگار سینئر صحافی اور روس کے دار الحکومت ماسکو میں مقیم ہیں، ادارے کا مضمون نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار

امریکی سپریم کورٹ نے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب...

پنجاب حکومت کی نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری، اعلیٰ افسران کے لیے گاڑیوں اور پیٹرول کی نئی حدیں مقرر

حکومتِ پنجاب نے سرکاری افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ...

ایران پر محدود حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ...

سیالکوٹ میں زیرِ تعمیر کلاس کا شیڈ گرنے سے طالبہ جاں بحق، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

سیالکوٹ کے علاقے بڈیانہ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی...