پاکستان میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد منظرِ عام پر

Date:

پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے افغان سرزمین کے مبینہ استعمال کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق متعدد حملوں کی تحقیقات میں سرحد پار روابط اور سہولت کاری کے شواہد ملے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 16 فروری 2026 کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث حملہ آور کی شناخت خارجی احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی، جو مبینہ طور پر افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور ماضی میں افغان طالبان کی اسپیشل فورسز سے بھی وابستہ رہ چکا تھا۔ اس حملے میں 11 سکیورٹی اہلکاروں سمیت دو شہری جاں بحق ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کے بمبار نے بھی مبینہ طور پر افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ اسی طرح 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اور 24 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز پشاور پر حملوں میں ملوث عناصر کے افغانستان سے روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مزید برآں 10 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر اور 10 نومبر کو وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے حملوں میں بھی افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے دعوے سامنے آئے۔ 19 اکتوبر 2025 کو جنوبی وزیرستان میں گرفتار خودکش بمبار نعمت اللہ ولد موسیٰ جان کو بھی افغان صوبہ قندھار کا رہائشی بتایا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق 4 مارچ 2025 کو بنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی جبکہ 11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس حملے کے سہولت کاروں کے افغانستان میں موجود ایک مبینہ کمانڈر سے رابطوں کا بھی سراغ ملا۔ 3 ستمبر 2024 کو گرفتار خودکش بمبار روح اللہ کے اعترافی بیان کو بھی سرحد پار روابط کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرینِ سلامتی کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرزمین دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہو تو یہ علاقائی امن کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بڑی تعداد میں غیر ملکی عناصر ملوث پائے گئے ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کی جانب سے ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے اور مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی اور دہشتگردی کے تسلسل نے دو طرفہ تعلقات اور امن کی کوششوں کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے، جبکہ سفارتی اور سکیورٹی سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

ایران کو 10 دن کی مہلت، معاہدہ نہ ہوا تو نتائج سنگین ہوں گے: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو...

آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی بہتری کا اعتراف، وفد 25 فروری کو دورہ کرے گا

آئی ایم ایف  نے پاکستان کی معیشت میں حالیہ...

مودی کا انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈا ، بھارتی جامعات میں تعلیمی آزادی پر قدعن

نئی دہلی:  بھارت میں وزیرِاعظم مودی کی حکومت پر...