صوبائی سیاست میں کشیدگی اُس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان آپس میں آمنے سامنے آ گئے اور معاملہ ایوان سے پولیس طلب کرنے تک جا پہنچا۔
اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن رانا شوکت (شوکت راجپوت) نے پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہو کر الزام عائد کیا کہ انہیں اپنی ہی جماعت کے رکن شارق جمال کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں کہا گیا: “آپ باہر نکلیں، ہم آپ کو دیکھ لیں گے۔” رانا شوکت نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ تھانے کو مقدمہ درج کرنے اور انہیں سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی جائے، بصورت دیگر وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوں گے۔
انہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ چند روز قبل مسلح افراد ان کے دفتر میں داخل ہوئے تھے اور اس واقعے کو بھی حالیہ دھمکیوں سے جوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور وہ ایک دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ مخالف رکن دوسرے گروپ سے وابستہ ہیں۔
صورتحال کشیدہ ہونے پر اسپیکر نے پولیس کو ایوان میں طلب کر لیا۔ بعد ازاں اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کر دی اور ان کے اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کر دی، جو معافی نامہ جمع کرانے تک برقرار رہے گی۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس نوعیت کے الزامات لگانا مناسب نہیں، تاہم اگر کوئی رکن پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کرانا چاہے تو اسے اختیار حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی اسمبلی پہنچ گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہو گئی، جس کے بعد پولیس افسران واپس روانہ ہو گئے۔
یہ واقعہ صوبائی اسمبلی میں جماعتی اختلافات کے کھل کر سامنے آنے کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ایوان کی کارروائی کو وقتی طور پر شدید متاثر کیا۔


