یہ زمین آپ کی نہیں، آپ میرے بادشاہ نہیں،آسٹریلیا کی خاتون سینیٹربادشاہ چارلس پر چیخ پڑیں

Date:

گزشتہ سال اکتوبر میں، جب چارلس سوم نے آسٹریلین پارلیمنٹ ہاؤس میں رسمی خطاب کیا، تو وہاں موجود ایک انڈیجینس (مقامی) سینیٹر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بادشاہ سے سیدھا مؤقف اپنایا کہ یہ زمین آپ کی نہیں اور آپ میرے بادشاہ نہیں ہیں۔

یہ واقعہ عالمی میڈیا میں نمایاں طور پر رپورٹ ہوا اور سوالات کو جنم دیا کہ آسٹریلیا میں نوآبادیاتی ماضی اور بادشاہت کے تعلقات کو اب کس طرح دیکھا جاتا ہے۔

یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب لیڈیا تھورپ، جو خود ایک مقامی (Indigenous) سیاستدان ہیں، نے بادشاہ کے خطاب کے دوران واک آؤٹ نہیں کیا بلکہ خود سامنے آکر بلند آواز میں کہا:

یہ زمین آپ کی نہیں ہے۔ آپ میرے بادشاہ نہیں ہیں۔ آپ نے ہمارے لوگوں کے خلاف نسل کشی کی ہے، ہمیں ہماری زمین واپس دو

تھورپ نے بادشاہ پر الزام لگایا کہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں مقامی قبائل کے خلاف ظلم و ستم ہوا، زمین چھینی گئی، قبائلی ثقافت تباہ ہوئی اور لوگوں کو بے حقوق چھوڑا گیا  اور آج تک ان تاریخی ناانصافیوں کا ازالہ نہیں کیا گیا۔

واقعے کی تفصیل:

یہ احتجاج 21 اکتوبر 2024 کو کینبرا میں ہوا، جب بادشاہ چارلس III اور کمالا نے آسٹریلین پارلیمنٹ ہاؤس میں رسمی تقریب میں شرکت کی۔

خطاب کے دوران تھورپ نے آہستہ  سے مرکزی ہال تک قدم بڑھایا اور اپنی آواز بلند کی۔

احتجاج کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں امن و امان کے لیے اس جگہ سے باہر نکالا۔

سینیٹر تھورپ نے اپنے احتجاج میں درج ذیل نکات پر زور دیا:وہ بادشاہ کے سرد جذبے اور آبائی زمین کے حقوق کی عدم ادائیگی پر کھل کر سوال اٹھا رہی تھیں۔

انہوں نے معاہدہ  کا مطالبہ کیا، جو آسٹریلیا کے پہلے باشندوں اور حکومت کے درمیان قانونی طور پر انصاف اور مشترکہ حقوق کو تسلیم کرے۔

ان کا موقف تھا کہ بادشاہ یا برطانوی ریاست مقامی عوام کی سربراہی یا اہم حقوق کی نمائندگی نہیں کرتی۔

عالمی ردِ عمل اور تشخیص:

واقعات کو بین الاقوامی میڈیا نے وسیع پیمانے پر رپورٹ کیا۔ مختلف ذرائع نے نوآبادیاتی ورثے، بادشاہت کے مستقبل، اور آسٹریلین آئینی تنظیم کے بارے میں بحثوں کو مزید بڑھا دیا۔ کچھ مبصرین نے اسے مقامی حقوق کا مطالبہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے پارلمانی آداب و طرز عمل کے خلاف جانا۔

سیاسی پس منظر:

آسٹریلیا آج بھی ایک پارلیمانی بادشاہت ہے جس کا سرِ ریاست بادشاہ چارلس III ہے، لیکن کئی سیاسی حلقے اور عوامی خیال اس معاملے پر تقسیم نظر آتے ہیں — بعض لوگ ریپبلک (جمہوری نظام) کے حق میں ہیں، جبکہ دیگر ماضی کی روایات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ چاہیں تو میں مزید پسِ منظر (جیسے آسٹریلیا میں بادشاہت کے خلاف عوامی رجحانات اور Indigenous الحقوق کی تاریخ) بھی شامل کر کے مزید تفصیل سے خبر تیار کر سکتا ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

صدر ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے بھارت۔امریکہ...

امریکی سپریم کورٹ کے فیصلےپر ٹرمپ کا جوابی اقدام، تمام ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر...