وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ہر اس میلی آنکھ کو مٹا دیا جائے گا جو ریاستِ پاکستان کی طرف اٹھے گی۔”
گزشتہ روز بنوں میں ہونے والے دہشتگرد حملے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل گلفراز اور سپاہی کرامت شہید ہوگئے تھے۔ حکام کے مطابق اس حملے کے تانے بانے بھی دیگر حالیہ کارروائیوں کی طرح افغانستان سے ملے ہیں۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث پائے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق دہشتگردوں نے اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنہ الخوارج اور ان کے اتحادی عناصر شامل ہیں، جو افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اسی تناظر میں گزشتہ رات پاک فضائیہ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد خوارج کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کے ایک ایک کونے اور ایک ایک انچ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے “پاکستان ہمیشہ زندہ باد” کا نعرہ لگاتے ہوئے تصدیق کی کہ افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور کسی بھی جارحیت یا دہشتگردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔


