پاکستان، سعودی عرب، ترکیے، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ، اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور خلیج تعاون تنظیم کی جانب سے جاری مشترکہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کا مؤقف نہ صرف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہے بلکہ یہ سابق امریکی صدر کی جانب سے پیش کیے گئے وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کے بھی برعکس ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی اور عرب زمینوں پر کسی قسم کا قانونی اختیار حاصل نہیں اور ایسی توسیع پسندانہ سوچ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے کا حق حاصل ہے، اور اگر اسرائیل دریائے نیل سے دریائے فرات تک علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو یہ قابل قبول ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا تصور ایک جغرافیائی اصطلاح کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاہم اسے بعض شدت پسند حلقوں میں گریٹر اسرائیل کے نظریے سے جوڑا جاتا ہے، جس میں لبنان سے سعودی عرب کے صحراؤں اور بحیرہ روم سے عراق کے دریائے فرات تک کے وسیع علاقے کو ایک تصوراتی خطے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
مسلم ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے بیانات کا نوٹس لے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قانون اور انصاف کے اصولوں کو یقینی بنائے۔


