امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر دیگر ممالک پر عائد ٹریڈ ٹیرف کی شرح میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے اسے 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس نے عالمی اقتصادی مبصرین میں تجارتی کشیدگی کے خدشات کو ہوا دے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ بہت سے ممالک دہائیوں سے امریکہ کا استحصال کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے دیگر ممالک کی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں پانچ فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ اقدام امریکی صنعتوں کو مضبوط بنانے، مقامی روزگار کو تحفظ فراہم کرنے اور امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ قدم قانونی اور جائز ہے اور اسے پہلے بھی آزمایا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں مزید “قانونی طور پر جائز” ٹیرفز کا اعلان کیا جائے گا، جس سے ملکی معیشت کو مزید تحفظ ملے گا۔
صدر نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں مختلف ممالک پر مزید ٹیرف کی مختلف شرائح عائد کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو امریکہ کے ساتھ تجارتی عدم توازن رکھتے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق 15 فیصد ٹیرف کا نفاذ عالمی تجارت میں نئی لہر کی شروعات ہو سکتا ہے جس کے اثرات دنیا بھر کی منڈیوں، برآمدات اور صارفین کی قیمتوں پر مرتب ہوں گے۔
امریکی تاجروں اور صنعتی یونینوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی شراکت داروں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ اقدام تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔


