جنوبی میناب، ایران میں 28 فروری کو ہونے والا اسکول حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران شہری ہلاکتوں کا اب تک کا سب سے مہلک واقعہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں تقریباً 175 طلبہ کی شہادت کی اطلاع ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی فریق نے قبول نہیں کی، تاہم امریکی اخبار(نیویارک ٹائمز) کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پوسٹس اور تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول کی عمارت کو باقاعدہ نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے کے وقت قریبی علاقے میںاسلامی انقلابی گارڈ کور) کے زیر انتظام نیول بیس یعنی بحری اڈے کو بھی حملے کا ہدف بنایا جا رہا تھا۔ امریکی حکام کی جانب سےآبنائے ہرمز) کے قریب فوجی اہداف پر حملوں کے اعتراف کے بعد یہ شبہ مزید مضبوط ہوا ہے کہ اسکول پر حملہ بھی اسی کارروائی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق سیٹلائٹ امیجز کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ 2013 میں اسکول کی عمارت پاسداران انقلاب کے نیول بیس کا حصہ تھی، تاہم 2016 میں اسے فوجی اڈے سے الگ کر دیا گیا تھا۔
تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول کے ساتھ کھیل کا میدان اور دیگر تعلیمی سہولیات موجود تھیں جو اسے ایک تعلیمی ادارہ ثابت کرتی ہیں۔
اگر مستقبل میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اسکول پر امریکی بمباری ہوئی تھی تو یہ سوال اٹھے گا کہ آیا حملہ غلطی سے ہوا یا پرانی انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔


