تہران: ایران نے ڈیل کے لیے امریکا کو فون کال کرنے سے متعلق امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ امریکا کو کال کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ تو کسی سیز فائر پر بات چیت ہوئی ہے اور نہ ہی مذاکرات کے لیے امریکا کو کوئی کال کی گئی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کسی قسم کے خفیہ رابطے یا مذاکرات کی کوشش نہیں کی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرزمین پر امریکی فوجی بوٹس کی موجودگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے اور اگر امریکا نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو یہ اس کے لیے بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں، تاہم ان کوششوں کا مرکز امریکا اور اسرائیل ہونا چاہیے کیونکہ انہی کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ڈیل کے لیے فون کال کی تھی، تاہم امریکا کی جانب سے کہا گیا کہ اب اس کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔ ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت کے منافی قرار دیا ہے


