لاہور: مریم نواز کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کے لیے ہونے والے اجلاس میں صوبے میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اہم حکمت عملی طے کی گئی ہے۔
حکومتِ پنجاب نے 17 نئے چھوٹے ڈیم بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اگلی بارشوں اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے آبی گزرگاہوں کو خالی رکھنے کی تین ماہ کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے تاکہ پانی کے بہاؤ کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ رواں سال بارشوں کی مقدار معمول سے تقریباً 28 فیصد زیادہ ہونے کی پیش گوئی ہے، جس کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں پنجاب کے 17 مختلف مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا جبکہ چنیوٹ میں بند تعمیر کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ دریا کے پیٹ میں غیرقانونی تعمیرات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا رہا ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے جدید انفلیٹ ایبل ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔
اجلاس میں کالا باغ اور سدھنائی کے مقامات پر آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے پر بھی غور کیا گیا تاکہ مستقبل میں پانی کی قلت اور سیلاب دونوں مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
مزید برآں حکومت نے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تنظیم نو کرتے ہوئے آٹھ نئے ونگز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر ردعمل دیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ریجنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ مراکز اور جدید ویئر ہاؤسز قائم کرنے کی بھی منظوری دی ہے جبکہ ریسکیو 1122 کو فلڈ آپریشنز کے لیے جدید آلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔


