ایران کے سیکریٹری برائے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے درمیان ایک اہم ملاقات سامنے آئی ہے، جو ان کے شہادت سے قبل ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق لاریجانی آیت اللہ خامنہ ای کے پاس ایک اہم رپورٹ کے ساتھ آئے، اور بتایا کہ دشمن نے ان کے قتل کا فیصلہ کر لیا ہے اور خطرہ حقیقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور محفوظ مقام تیار کیا گیا ہے جہاں بم اور ہوائی حملے آسانی سے نہیں پہنچ سکتے، تاکہ وہ عارضی طور پر محفوظ رہ سکیں۔
خامنہ ای نے جواب میں کہااگر میں سب سے پہلے خطرے کے میدان سے غائب ہو جاؤں تو فوجیوں اور عوام سے کیسے کہوں کہ ثابت قدم رہیں؟ ہم حسین ابن علی کے بیٹے ہیں، جنہوں نے اپنے مقدر کو جانتے ہوئے بھی قربانی کا راستہ اختیار کیا۔ اگر میں غائب ہو گیا تو تاریخ میں سوال اٹھ سکتا ہے۔”
لاریجانی نے مشورہ دیا کہ کبھی غائب ہونا حکمت بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ غائب امام کے بارے میں سکھایا گیا ہے، لیکن خامنہ ای نے واضح کیا کہ فرق یہ ہے کہ وہ قوم کے ساتھ ہیں، اور قوم کے ساتھ ہونے کی صورت میں غائب ہونا تاریخی ضمیر میں بھاری سوال چھوڑ سکتا ہے۔
بعد ازاں خامنہ ای نے اپنے خاندان کو محفوظ مقام کے بارے میں بتایا، لیکن ان کے خاندان نے کہا:ہم وہاں بھی ہیں جہاں آپ ہیں۔
یعنی آیت اللہ خامنہ ای نے خطرے کے باوجود اپنے مقام پر رہنے کا فیصلہ کیا، نہ صرف اس لیے کہ وہ خطرے کو نہیں جانتے تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ ایک رہنما کے لیے قوم کے ساتھ کھڑے رہنا سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
یہ ملاقات نہ صرف خامنہ ای کی قیادت اور قربانی کی تصویر کشی کرتی ہے، بلکہ ایک رہنما کی اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری کی مثال بھی پیش کرتی ہے


