وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے 20 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 358 روپے 1 پیسہ فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان پر عائد پٹرولیم لیوی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 105 روپے 37 پیسے جبکہ ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
وزارت توانائی کے مطابق حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی، جو 14 مارچ سے 20 مارچ تک کے عرصے کے لیے ادا کی جائے گی۔ اس دوران پیٹرول پر 49 روپے 63 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل پر 75 روپے 5 پیسے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔
وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں ادا کی جائے گی، جبکہ ان کلیمز کی ادائیگی اوگرا کی جانب سے کی جائے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کابینہ سے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ کے قیام کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے، جبکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 27 ارب 10 کروڑ روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق پرائس ڈیفرینشل کی ادائیگی کے طریقہ کار میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے موصول ہونے والے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہوگا۔


