ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی اور بنگلادیش کے خلاف سیریز میں 1-2 کی شکست کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی نے سلیکشن کمیٹی پر سخت تنقید کی ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے اراکین اگرچہ کافی کرکٹ کھیل چکے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں کہ کس کھلاڑی کو کس فارمیٹ کا کپتان ہونا چاہیے۔
آفریدی نے مزید کہا کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو غیر ضروری طور پر ڈراپ کر دیا گیا، جبکہ ون ڈے فارمیٹ کے سینئر کھلاڑی ٹیم میں برقرار رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے نہ صرف ٹیم کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں۔
شاہد آفریدی نے زور دیا کہ ٹیم میں میرٹ اور فارمیٹ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے ایک شفاف اور مستند سرجری سلیکشن کمیٹی کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم بہترین نتائج حاصل کر سکے اور ٹیم کے نوجوان ٹیلنٹ کو بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں۔


