لندن: برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں موت سے بال بال بچ گئے۔
ٹیلی گراف کے مطابق اس وقت مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اسی عمارت میں موجود تھے جہاں ایرانی قیادت کی ایک اہم میٹنگ جاری تھی۔
اخبار نے دعویٰ کیا کہ انہیں آیت اللہ خامنہ ای کے ہیڈ پروٹوکول کی ایک آڈیو ٹیپ حاصل ہوئی ہے، جس کی تصدیق بھی کروائی گئی۔
اس آڈیو میں مظہر حسینی نے بتایا کہ حملے سے چند لمحے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کمرے سے اٹھ کر باہر باغیچے کی جانب گئے، جس کی وجہ سے وہ میزائل حملے کی شدت سے محفوظ رہ گئے اور صرف ان کی ٹانگ پر معمولی زخم آئے۔
مظہر حسینی نے مزید کہا کہ اللہ کی مرضی یہی تھی کہ وہ اس موقع پر باہر ہوں، اور وہ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے جب عمارت کو میزائل نے نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ ایران کے سیاسی منظرنامے میں نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسی حملے میں ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جان بچ جانا ایران کی قیادت میں ایک نیا مرحلہ اور غیر متوقع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس واقعے نے ایران کی داخلی سیاسی صورتحال اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈالا ہے، اور اس حوالے سے عالمی میڈیا اور تجزیہ کار مسلسل تبصرے کر رہے ہیں


