وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے اسپتال پر حملے کے حوالے سے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی، جس کے بعد جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔
جیونیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ، کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں یا طالبان کے انفراسٹرکچر پر حملے کیے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ جہاں پاکستان نے حملہ کیا وہاں ایمونیشن رکھی گئی تھی اور دھماکے ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپریشن کے اہداف واضح اور پیشہ ورانہ تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی اسپتال، منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز یا شہری سہولت کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور افغان طالبان رجیم کا جھوٹا دعویٰ پروپیگنڈا کے مترادف ہے، کیونکہ یہ حکومت بار بار جھوٹ بول چکی ہے اور منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کو خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے اور ایمونیشن و تکنیکی انفراسٹرکچر کو تباہ کیا، جبکہ افغان وزارت داخلہ نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ منشیات کے بحالی مرکز پر حملے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے۔
وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ پاکستان کی پالیسی عالمی سطح پر شفاف اور واضح ہے اور یہ سعودی عرب سمیت تمام دوست ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے عملی اقدامات میں ظاہر ہو رہی ہے۔


