روس میں ایرانی سفیر نے مجتبیٰ خامنہ ای کے روسی اسپتال میں زیر علاج ہونے کی افواہوں کی تردید کر دی

Date:

روس میں ایرانی سفیر کاظم جلالی نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے روسی اسپتال میں زیر علاج ہونے کی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے اور ان خبروں کو مغربی میڈیا کی نفسیاتی جنگ قرار دیا ہے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ جھوٹ بولنے کی عادت جھوٹے کے ذہن سے کبھی نہیں جاتی اور یہ دعوے کہ مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے ماسکو منتقل ہوئے ہیں، حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پہلے مغربی میڈیا پروپیگنڈا کرتا رہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای وینزویلا اور روس چلے گئے ہیں اور اب یہ نئی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے روس منتقل کیے گئے ہیں۔

ایرانی سفیر نے زور دیا کہ ایران کے رہنماؤں کو نہ بھاگنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی پناہ گاہوں میں چھپنے کی، بلکہ ان کی اصل جگہ عوام کے درمیان سڑکوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی برداشت، نظام کا عزم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ صلاحیت نہ صرف ایران بلکہ پورے مغربی ایشیا کے لیے اس جنگ کے انجام کا تعین کرے گی۔

ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور خطے کی سلامتی کا دفاع امریکا کی جارحیت اور دباؤ کے خلاف کر رہا ہے، اور اس جنگ کے بعد مغربی ایشیا کے سکیورٹی نظام کو عوام کی حقیقی خواہشات کے مطابق، بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر دوبارہ ترتیب دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ کویتی اخبار الجریدہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے روس منتقل کیا گیا، جبکہ دعویٰ کیا گیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ذاتی طور پر انہیں ماسکو بلایا۔

تاہم، یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اس دوران مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا پہلا بیان سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا، اور سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق انہوں نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی تجاویز کو مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ وقت امن کا نہیں، امریکا اور اسرائیل کو شکست دینا ہوگی اور امریکا کو ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related