بھارت کے شہر وارانسی میں دریائے گنگا میں کشتی پر افطار کرنے کے باعث 14 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ نوجوان کشتی پر افطار کر رہے تھے کہ ایک بی جے پی یوتھ لیڈر کی شکایت پر کارروائی عمل میں آئی۔
گرفتار نوجوانوں پر الزام تھا کہ کشتی پر افطار کے دوران چکن بریانی کھائی گئی اور بچا ہوا کھانا مبینہ طور پر دریا میں پھینک دیا گیا، جس کے نتیجے میں "مذہبی جذبات مجروح” ہونے کا دعویٰ کیا گیا، اور اسی بنیاد پر سب کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس واقعے نے بھارت میں مذہبی آزادی اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کیا مذہبی جذبات صرف اسی وقت مجروح ہوتے ہیں جب مسلمان اپنی عبادت انجام دیں؟ اس معاملے نے عوامی و سیاسی سطح پر شدید بحث کو جنم دیا ہے اور مذہبی رواداری اور شہری آزادیوں کے حوالے سے ملک میں جاری بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف وارانسی بلکہ پورے بھارت میں مذہبی اور سماجی تناظر میں اہم بحث کا باعث بن رہا ہے۔


