اسلام آباد: فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مشائخ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی، جس میں قومی یگانگت، داخلی استحکام اور دفاعِ پاکستان کے حوالے سے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر جاری اعلامیے میں علماء نے مذہب کے نام پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ریاستی اداروں، بالخصوص پاک فوج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر دفاعِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔
علماء و مشائخ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاک افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم ملکی سلامتی کے لیے متحد ہے۔
زاہد عباس کاظمی نے کہا کہ بطور چیئرمین وحدت علمائے اسلام وہ اپنی جماعت کی جانب سے پاکستان آرمی کو یقین دلاتے ہیں کہ ہر محاذ پر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف افواجِ پاکستان کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔

شبیر حسین میثمی نے کہا کہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے، جبکہ ہر قسم کی اندرونی و بیرونی سازشوں کے خلاف ملک کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
الطاف حسین نے افغانستان کی مبینہ جارحیت پر پاک فوج کے مؤثر ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور ہر گاؤں سے افراد کو دفاعِ وطن کے لیے تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عارف واحدی نے پاکستان کو عالم اسلام کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سالمیت ہر چیز سے مقدم ہے، جبکہ مرزا علی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ریاست مخالف سرگرمیوں سے دور رہیں اور ملک کے استحکام میں مثبت کردار ادا کریں۔
دیگر علماء، جن میں ناصر عباس تقوی، توقیر عباس، محمد حسین نجفی اور بشارت امامی شامل تھے، نے بھی پاکستان کی سالمیت کے لیے افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔


