انڈونیشیا کے صدر Prabowo Subianto نے واضح کیا ہے کہ انڈونیشیا غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی فیس ادا نہیں کرے گا اور اس حوالے سے پھیلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے صرف غزہ میں امن فوج فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور کبھی بھی کسی مالی تعاون یا اربوں ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ نہیں کیا گیا۔
انڈونیشین صدر کے مطابق ملک کا کردار صرف امن قائم رکھنے (پیس کیپنگ) تک محدود ہے اور انڈونیشیا مطلوبہ تعداد میں امن فوج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی قسم کی مالی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
یہ وضاحت ان خدشات کے بعد سامنے آئی ہے کہ اس مبینہ مالی ذمہ داری سے انڈونیشیا کے قومی بجٹ پر بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ اس سے قبل وزیر خزانہ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ ممکنہ اخراجات دفاعی بجٹ سے پورے کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر پرابوو نے واشنگٹن میں غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں غزہ کی تعمیر نو اور امداد کے لیے اربوں ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے


