تہران: Iran نے Donald Trump کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بیانات کا مقصد دراصل توانائی کی عالمی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق United States اور ایران کے درمیان کسی قسم کی کوئی براہ راست یا بالواسطہ بات چیت نہیں ہو رہی، اور امریکی صدر کے بیانات حقیقت کے منافی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بعض علاقائی ممالک کی جانب سے تجاویز ضرور سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام کوششوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے کیونکہ ایران اس جنگ کا آغاز کرنے والا فریق نہیں بلکہ ردعمل دینے پر مجبور ہوا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے بھی ٹرمپ کے بیان کو “نفسیاتی جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشے نے امریکا کو اپنے حملے مؤخر کرنے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حل کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے، جبکہ انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے پانچ دن کے لیے روکنے کی ہدایت بھی دی۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 94 ڈالر تک آگئی، بعد ازاں دوبارہ 100 ڈالر کے قریب مستحکم ہوئی، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) بھی تقریباً 10 فیصد کمی کے بعد 88.80 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔


