واشنگٹن: Donald Trump کی جانب سے ایرانی پاور پلانٹس پر ممکنہ حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے توانائی مارکیٹس میں عارضی استحکام دیکھنے میں آیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے اس اعلان کے فوری بعد تجارتی اوقات سے قبل ہی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔ برطانوی برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 94 ڈالر تک آگئی، تاہم بعد ازاں یہ دوبارہ بڑھ کر 97 ڈالر سے اوپر چلی گئی اور اس وقت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہی ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت میں بھی تقریباً 10 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد یہ 88.80 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ United States اور Iran کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مکمل حل کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے، جبکہ انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی کہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے پانچ دن کے لیے روک دیے جائیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، جہاں برینٹ کروڈ 113 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا۔
دوسری جانب Shehbaz Sharif نے پاکستان میں لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ عام صارفین کے زیر استعمال پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔


