امریکا میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے مواخذہ کی نئی تحریک سامنے آئی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق دو لاکھ پچاس ہزار (250,000) سے زائد امریکی شہریوں نے ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس کا عنوان ٹرمپ کی دوبارہ مواخذہ کرو رکھا گیا ہے۔
اس پٹیشن میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صدر کے خلاف دوبارہ مواخذے کی کارروائی شروع کی جائے۔
یہ پٹیشن ایک شہری مہم کے طور پر سامنے آئی ہے جس کا مقصد عوامی دباؤ کے ذریعے کانگریس کو متحرک کرنا ہے۔ دستخط کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعض اقدامات اور بیانات ملک کے آئینی تقاضوں اور جمہوری اقدار کے خلاف ہیں، لہٰذا ان کے طرزِ حکمرانی کا احتساب ضروری ہے۔
پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدر کے حالیہ فیصلوں اور پالیسیوں نے نہ صرف داخلی سطح پر سیاسی تقسیم کو بڑھایا بلکہ عالمی سطح پرببھی امریکا کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی اپنی صدارت کے دوران دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں، جو امریکی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم دونوں مواقع پر امریکا نے انہیں بری کر دیا تھا۔
ماہرین سیاسیات کے مطابق اگرچہ اس قسم کی عوامی پٹیشنز براہِ راست مواخذے کی کارروائی شروع نہیں کر سکتیں، تاہم یہ سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو کر قانون سازوں پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ کانگریس میں مواخذے کی کارروائی کا آغاز ایوانِ نمائندگان سے ہوتا ہے، جس کے بعد معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے جہاں صدر کے خلاف حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس نئی عوامی مہم کے نتیجے میں Uامریکی کانگریس اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتی ہے یا نہیں، کیونکہ موجودہ سیاسی حالات میں کسی بھی بڑے آئینی اقدام کے لیے واضح اکثریت اور مضبوط سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے


