ایران میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر شدید کشیدگی اختیار کر گئی ہے، کیونکہ سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے امریکی کمپنیوں اور صہیونی اتحادی صنعتی اداروں کو فوری طور پر اپنے کام کے مقامات خالی کرنے کی سخت وارننگ جاری کی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور صہیونی “دشمنوں” نے پہلے سے دی گئی تنبیہ کے باوجود ایران کے صنعتی مراکز پر متعدد حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں جواباً عسکری کارروائیاں شروع کی جا رہی ہیں۔
بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خطے میں امریکی شیئر ہولڈرز رکھنے والی صنعتی کمپنیوں کے تمام ملازمین اور صہیونی حکومت کی اتحادی صنعتوں سے وابستہ افراد فوری طور پر اپنے کام کے مقامات چھوڑ دیں تاکہ اپنی جانوں کو خطرے سے بچا سکیں۔
مزید یہ کہ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ایسے صنعتی مراکز کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے افراد بھی حملوں کے ختم ہونے تک اپنے گھروں کو خالی کر دیں، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ وارننگ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جارحانہ دفاعی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مقامی صنعتوں بلکہ عالمی کاروباری اداروں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس اقدام سے خطے میں امریکی اور صہیونی مفادات پر براہِ راست دباؤ بڑھ سکتا ہے، اور ممکنہ طور پر عسکری تصادم کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔


