ایران امریکا اور اسرائیل کے مابین جنگ کے دوران واقعات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گزشتہ چند دنوں میں جب سے ایران نے آبنائے ہرموز بند کیا ہوا ہے تیل کی بندش کے بعد دنیا میں بڑی تیزی سے معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں،، عالمی سطح پر تیل کے بحران کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں

سری لنکا ، راشن بندی۔ چار روزہ ورک ویک۔ اسکول بند۔
پاکستان ، بحران۔ اچانک قیمتوں میں اضافہ۔ لمبی قطاریں۔ چار روزہ ورک ویک۔
، بھارت ،ذخائر صرف 9 دن کے لیے کافی۔ متبادل سپلائرز کی تلاش جاری۔
،جنوبی کوریا ، صرف 50 دن باقی۔ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
جاپان ، غلط بیانی۔ 254 دن کا دعویٰ کیا گیا، اصل قابلِ استعمال ذخائر: 95 دن۔
، برطانیہ ، شیل کے سی ای او کی وارننگ: اپریل سے قلت شروع ہو جائے گی۔
، جرمنی ، گیس کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ۔ یورپی یونین کا ہنگامی منصوبہ شروع۔
، فرانس ،پیٹرول کی قیمتیں آٹھ ہفتوں کے مقابلےمیں 30 فیصد زیادہ۔
، جنوبی افریقہ،حکومت کہتی ہے صورتحال مستحکم ہے،مگر شہری خالی پٹرول پمپس کی تصاویر لے رہے ہیں۔

،ترکی،اسٹاک مارکیٹ گر رہی ہے۔ مہنگائی میں تیز اضافہ۔ کرنسی دباؤ کا شکار۔
برازیل، تشویش کے ساتھ صورتحال پر نظر۔ مقامی تیل مددگار، مگر سپلائی چین متاثر۔
آسٹریلیا،تیل بردار جہازوں کی آمدمیں تاخیر۔ درآمدات پر انحصار۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون پر امید قائم۔
امریکا،کچھ ریاستوں میں پٹرول ٹیکس معطل۔اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے تیل نکالا جا رہا ہے۔ ایران پر عارضی پابندیوں میں نرمی۔
چین ، 1.4 ارب بیرل تیل ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔برآمدات پر پابندیاں۔ ایران سے تیل کی درآمد جاری۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی وجہ سے اس وقت عالمی تیل کا 20 فیصد ختم ہو چکا ہے۔ دنیا کو روزانہ 80 لاکھ بیرل کی کمی کا سامنا ہے۔
اوپیک کا ردعمل: صرف 2 لاکھ 6 ہزار بیرل اضافہ،جو کمی کا صرف 2 فیصد ہے۔وہ بات جو کوئی آپ کو نہیں بتا رہا،،آپ کو بتایا جا رہا ہے کہ “ذخائر کافی ہیں،
مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ جاپان نے اپنے ذخائر کا تین گنا زیادہ اندازہ لگایا، جنوبی افریقہ شدید قلت کا شکار ہے، اور بھارت کے پاس صرف 9 دن کا ذخیرہ باقی ہے۔حقیقی توانائی کا بحران ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔


