خطے میں کشیدگی نے خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔
روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے تل ابیب پر کلسٹر بموں کی بارش کی، جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ میزائلوں کی آمد کے ساتھ ہی سائرن بج اٹھے اور شہری خوف کے عالم میں شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
اسرائیلی حکام نے بھی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کلسٹر بموں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوخ پورٹ پر امریکی بحری اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 6 ٹیکٹیکل جہاز حملوں کی زد میں آئے۔ رپورٹس کے مطابق تین جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر تین میں آگ بھڑک اٹھی۔
مزید برآں پاسدارانِ انقلاب نے “وعدہ صادق چہارم” آپریشن کے تحت حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران Dubai کے ساحل اور ایک ہوٹل کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے علاقے الخرج میں واقع پرنس سلطان بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ری فیولنگ اور ایئر ٹرانسپورٹ فلیٹ کو ٹارگٹ کیا گیا۔
تاحال ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔


