واشنگٹن: وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کے لیے فوجی آپریشن کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ مشن انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہے اور امریکی فورسز کو کئی دن ایران کے اندر رہنا پڑ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم پر زور دیا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ جنگ ختم کرنے کی شرط کے طور پر یورینیم فراہم کیا جائے۔
اخبار کے مطابق اگر ایران مذاکرات میں یورینیم دینے سے انکار کرتا ہے تو صدر ٹرمپ طاقت کا استعمال کرنے کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں، اور یورینیم قبضے میں لینے کے لیے ہدفی آپریشن جنگ کی ٹائم لائن کو زیادہ متاثر نہیں کرے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق پینٹاگون صدر کے لیے زیادہ آپشن کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مطلب یہ نہیں کہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ پینٹاگون اور سینٹ کام کے ترجمانوں نے اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاریخی حوالے کے طور پر یاد رہے کہ امریکا نے پہلے بھی 1994 میں قازقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم نکالا تھا۔


