واشنگٹن: امریکہ بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران میں امریکی مداخلت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جنہیں نوکنگ تحریک کے تحت منظم کیا گیا۔
اتوار، 28 مارچ 2026 کو مظاہرے تمام 50 ریاستوں میں 3,300 سے زائد مقامات پر ہوئے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 8 ملین افراد نے شرکت کی، جسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ایک روزہ احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
احتجاجیوں نے متعدد مسائل پر اپنے غصے کا اظہار کیا، جن میں ایران میں امریکی جنگ، صدر کے غیر سنجیدہ رویے، شہری آزادیوں کی خلاف ورزیاں، ووٹنگ حقوق اور امیگریشن کے سخت اقدامات شامل تھے۔
مینیاپولس-سینٹ پال مینیسوٹا میں سب سے بڑا مرکزی احتجاج ہوا، جہاں ہزاروں مظاہرین نے ریلی میں حصہ لیا اور تقریری سیشن اور موسیقی کے پروگرام بھی منعقد ہوئے۔
نیویارک، واشنگٹن، لاس اینجلس، سان فرانسسکو اور شکاگو سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہروں میں شرکت کی۔
زیادہ تر مظاہرے پرامن رہے اور احتجاجی کارکنوں نے نعرے لگائے، پلے کارڈز اٹھائے اور سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ تاہم بعض شہروں میں کشیدگی بھی دیکھی گئی؛ پورت لینڈ اور لاس اینجلس میں مظاہرین نے فلیگ جلائے، پولیس نے tear gas کا استعمال کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
تحریک No Kings 2025 میں شروع ہوئی تھی اور اب یہ عوامی غم و غصے کو منظم سیاسی احتجاج کی شکل دے چکی ہے۔ مظاہروں کے ذریعے امریکی شہری حکومت کی پالیسیوں کے خلاف واضح پیغام دے رہے ہیں اور پرامن طریقے سے سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


