معروف بزنس مین عامر اعوان کے قتل کا معمہ حل کر لیا گیا، پولیس نے واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان ایک منظم ڈکیتی گینگ سے تعلق رکھتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے جدید اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کرتے ہوئے کیس کو ٹریس کیا اور مختلف کارروائیوں کے دوران ملزمان کو حراست میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقوں چارسدہ اور مردان سے ہے، جہاں چھاپوں کے دوران انہیں گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے واردات کے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان نہ صرف ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہے بلکہ مزاحمت کی صورت میں قتل جیسے سنگین جرائم کا بھی ارتکاب کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مقتول کی بیوہ اور جائے وقوعہ پر موجود سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست افراد کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون ملزمان براہِ راست قتل میں ملوث تھے اور کن کا کردار سہولت کاری تک محدود تھا۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مقدمے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا اور مقتول کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔


