: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی نئی رجیم نسبتاً کم بنیاد پرست اور ذہین ہے، اور آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد جنگ بندی کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھلنے تک ایران پر حملے جاری رہیں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ایران پر بمباری جاری رکھی جائے گی اور اسے اقتصادی اور فوجی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی، جنگ بندی فوری طور پر ممکن نہیں اور ایران کے لیے امریکا کی شرائط برقرار ہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ نے ایران میں ’’رجیم چینج‘‘ کے مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی رجیم امریکا کے لیے قابل قبول ہے۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم دو سے تین ہفتوں کے اندر ختم کر سکتا ہے، ’’ہم بہت جلد نکل جائیں گے، دو ہفتوں میں، شاید دو یا تین ہفتوں میں۔‘‘ یہ بیان ان کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ وہ ایک ماہ سے جاری جنگ کو جلد ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر ڈالا ہے۔
ایران کی جانب سے، وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران صرف جنگ کے خاتمے کو قبول کرے گا، نہ کہ جزوی جنگ بندی کو۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران پورے خطے میں دشمنی کے خاتمے کے اصول پر قائم ہے اور امریکا سے پیغامات کے تبادلے کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات قومی سلامتی کونسل کی نگرانی میں موصول ہوئے ہیں، اور یہ پیغامات براہِ راست واشنگٹن سے یا خطے میں دوستوں کے ذریعے پہنچائے گئے، لیکن کسی بھی مذاکرات کے دعوے میں صداقت نہیں ہے
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں کسی بھی فریق سے مذاکرات کی کوئی حقیقی سرگرمی نہیں، اور تمام پیغامات وزارت خارجہ یا سیکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعے ہی پہنچائے جاتے ہیں۔


