چینی ماہرِ بین الاقوامی امور وکٹر گاؤ نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جوہری حملے سے اسرائیل کو تحفظ نہیں ملے گا بلکہ یہ اقدام خود اس کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ عالمی صورتحال میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی خطرناک نتائج کا حامل ہوگا۔
وکٹر گاؤ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اگر اسرائیل جوہری آپشن استعمال کرتا ہے تو اس کے ردعمل میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے، جس سے خود اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں جنگیں محدود نہیں رہتیں اور کسی ایک ملک کا اقدام عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ ان کے بقول، طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور باہمی تعاون ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔
چینی ماہر نے زور دیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا تصور ہی انسانیت کے لیے خطرہ ہے اور اس سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو اس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، وکٹر گاؤ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات عالمی برادری کو محتاط رہنے اور امن کے راستے کو ترجیح دینے کی یاد دہانی کراتے ہیں۔


