واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو وہ "سب کچھ تباہ کرنے” اور تیل پر قبضہ کرنے جیسے اقدامات پر غور کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی صورت میں ایران بھر میں پلوں اور پاور پلانٹس کی تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ رواں برس امریکا نے ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے کردوں کے ذریعے اسلحہ بھیجا تھا، تاہم ان کے بقول ممکنہ طور پر یہ اسلحہ کردوں نے خود ہی رکھ لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے بعض عہدیداروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امکان ہے کہ پیر تک کسی معاہدے پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
دریں اثنا، ایک اور بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پہاڑی علاقوں سے ایک زخمی امریکی ایف-15 پائلٹ کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوج اس افسر کے قریب پہنچ چکی تھی تاہم امریکی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے بچا لیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ مذکورہ افسر ایک معزز کرنل ہیں اور انہیں انتہائی خطرناک حالات میں ریسکیو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے مشنز شاذ و نادر ہی کیے جاتے ہیں کیونکہ اس میں عملے اور ساز و سامان دونوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایک دوسرے آپریشن میں ایک اور پائلٹ کو دن کی روشنی میں بچایا گیا، اور اس دوران امریکی طیارے تقریباً 7 گھنٹے تک ایران کی فضائی حدود میں موجود رہے، جو کہ ایک غیرمعمولی کارروائی ہے۔


