امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کےخلاف نازیبا زبان پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹ پر عالمی مبصرین نے حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این کے پینل میں اس معاملے پر گفتگو کے دوران اینکر اور ماہرین دنگ رہ گئے۔ پروگرام کے میزبان نے کہا کہ بجلی گھروں اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرم تصور کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب نیویارک ٹائمز کے رپورٹرزولان کنو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے، جو پالیسی کے حوالے سے ابہام پیدا کرتا ہے۔
عالمی امور کے ماہر بیرٹ میگرگ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی زبان استعمال کرنے سے کسی بھی سفارتی ڈیل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز پر مبصر نے کہا کہ ایسے بیانات سے ٹرمپ کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے، اور ان کے اقدامات نے ایران کو مزید مضبوط اور جارحانہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت کے لیے موت ایک اعزاز بن چکی ہے جبکہ ٹرمپ ہر معاملے کو صرف “ڈیل” کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ادھر ٹریڈ یونین رہنما ہووارٹ بیکٹ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اب اسی آبنائے ہرمز کی فکر لاحق ہو گئی ہے جسے وہ چند روز قبل غیر اہم قرار دے رہے تھے۔ انہوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا میں سیاسی تبدیلی کے بعد انہیں انٹر نیشنل کرمنل کورٹ میں پیش کیا جانا چاہیے


