ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور دعویٰ کرتے رہے کہ تہران معاہدے کے لیے منتیں کر رہا ہے، تاہم دوسری جانب امریکا عارضی جنگ بندی کے لیے سرگرم تھا۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کئی ہفتوں سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھی تاکہ پاکستان ایران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کرے اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولا جا سکے، جس میں پاکستان نے بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ اور ثالث اہم کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتی کوششوں کا نتیجہ منگل کی رات اس اعلان کی صورت میں نکلا، جس میں امریکا، اسرائیل اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے امریکی شرائط نہ مانیں تو ایک پوری تہذیب کو تباہ کر دیا جائے گا۔
اخبار کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایرانی حکومت کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے اور اسی دوران انہوں نے ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔


