امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ چین نے ایران کو کامیابی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لایا ہے اور یہ پیش رفت حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ میں مکمل فتح حاصل کی ہے اور ان کے بقول یہ “100 فیصد کامیابی” ہے جس پر کسی قسم کا شبہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے نتیجے میں ایران کو مذاکرات پر آمادہ ہونا پڑا، جو امریکا کی حکمت عملی کی بڑی کامیابی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران اہم معاملات کو حل کرنے پر توجہ دی جائے گی، خصوصاً ایران کے یورینیم پروگرام کے حوالے سے پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے یورینیم کے معاملے کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا جائے گا اور یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر امریکا نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر انہیں اس بات کا یقین نہ ہوتا کہ یورینیم کا معاملہ مؤثر انداز میں سنبھال لیا جائے گا تو وہ ہرگز اس معاہدے پر رضامند نہ ہوتے۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے نہ صرف امریکا کے سیکیورٹی اہداف حاصل ہوئے بلکہ خطے میں استحکام کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے بیانات کو اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے حتمی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جنگ بندی پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے اور آئندہ مذاکرات کس سمت میں پیش رفت کرتے ہیں۔


