ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر حملے مکمل طور پر روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دے گا۔ ان کے مطابق ایرانی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے آبنائے ہرمز سے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف بمباری اور فوجی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہو گیا ہے، اور اس دوران دو طرفہ جنگ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ امریکا اپنے زیادہ تر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے بلکہ بعض معاملات میں ان سے آگے بھی بڑھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن کے واضح معاہدے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے، جسے وہ مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر متنازع امور پر دونوں ممالک کے درمیان اصولی اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید دو ہفتے درکار ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ ایک طویل عرصے سے جاری مسئلہ اب حل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اگر آئندہ دو ہفتوں میں مذاکرات کامیاب ہو گئے تو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تنازع کے خاتمے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔


