امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر ظاہر کی۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ٹرمپ نے نیتن یاہو سے لبنان پر حملے روکنے اور مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاہم سی این این کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بنیامین نیتن یاہو نے حملے روکنے سے متعلق امریکی مؤقف کو مکمل طور پر قبول کیا یا نہیں۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان پر حملے فی الحال جاری رہیں گے اور مذاکرات بھی انہی حالات میں کیے جائیں گے۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور موجودہ کشیدہ صورتحال کا واحد حل جنگ بندی ہے۔
جوزف عون کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے قائم ہو چکے ہیں، جو خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل بنیامین نیتن یاہو نے کابینہ کو ہدایت دی تھی کہ لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہ راست مذاکرات شروع کیے جائیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل بہت جلد لبنان کے ساتھ مذاکراتی عمل کا آغاز کرے گا، جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ لبنان کی جانب سے بار بار براہ راست بات چیت کی درخواست کی جا رہی تھی۔


