واشنگٹن: امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل نہایت تیز رفتار اور اہم سفارتی کوششیں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات سے کنارہ کشی کے اشاروں کے بعد ہنگامی سفارتکاری کا آغاز ہوا۔
اخبار کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ نے ایرانی قیادت سے فوری رابطے کیے، جبکہ قطر، مصر اور ترکیے نے بھی ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کو تیز کیا۔ مزید برآں آبنائے ہرمز کی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے چین بھی متحرک ہوا اور اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین نے آخری لمحات میں ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کیا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی وقت کے مطابق شام 5 بجے صدر ٹرمپ کو سیز فائر کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران ان شرائط پر رضامند ہے تو وہ بھی اتفاق کرتے ہیں۔


