ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے خلاف ہونے والے حملوں کا بھرپور بدلہ لے گا اور آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا جائے گا، جس سے خطے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
چہلم کے موقع پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام کی سڑکوں پر موجودگی اسی طرح برقرار رہنی چاہیے جیسے گزشتہ چالیس دنوں سے دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ یہی قومی اتحاد اور مزاحمت کی علامت ہے۔
انہوں نے ایران کے جنوبی پڑوسی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیرمعمولی صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور انہیں چاہیے کہ وہ شیطانی قوتوں کے جھوٹے وعدوں سے محتاط رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران تمام مزاحمتی محاذوں کو ایک متحد قوت کے طور پر دیکھتا ہے اور اگرچہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم وہ اپنے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے جنوبی پڑوسیوں کی جانب سے مناسب ردعمل کا منتظر ہے تاکہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے شہداء، خصوصاً اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے، اور دشمن کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے کے باوجود عوام کو چاہیے کہ وہ سڑکوں سے پیچھے نہ ہٹیں اور اپنی حمایت جاری رکھیں۔


