ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور دھمکی آمیز بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
انہوں نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں پڑا، کیونکہ ایران پہلے بھی عملی طور پر ثابت کر چکا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنی خودمختاری، وقار اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں، اور دنیا اس حقیقت کی گواہ ہے۔
ایرانی اسپیکر نے حالیہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے نہایت سنجیدہ، مشکل اور طویل مذاکرات کیے، جن میں ایرانی وفد نے مثبت اور مؤثر تجاویز پیش کیں۔
ان کے مطابق ان اقدامات سے نہ صرف ایران کے حسنِ نیت کا اظہار ہوا بلکہ بعض معاملات میں پیش رفت بھی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہر سطح پر تعمیری کردار ادا کیا اور یہ واضح کیا کہ وہ اصولوں کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
تاہم انہوں نے امریکا پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی وعدوں پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کے رویے، معاہدوں سے انحراف اور دباؤ کی پالیسیوں نے ایرانی قوم کے دل میں بداعتمادی پیدا کی ہے، اس لیے اب واشنگٹن کو عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرنا ہوگا، جو ایک مشکل مرحلہ ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم اپنی صلاحیتوں، قومی وسائل اور داخلی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
ان کے مطابق ایران نے ہر مشکل وقت میں خود انحصاری کو ترجیح دی ہے اور یہی پالیسی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بیرونی دباؤ کے تحت اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی اسپیکر نے اپنے سفارتی وفد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی نمائندہ ٹیم مکمل اتحاد، سنجیدگی اور خلاقیت کے ساتھ مذاکراتی میدان میں اتری اور اس نے قومی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور انداز میں مؤقف پیش کیا۔ ان کے مطابق وفد نے ثابت کیا کہ ایران اپنے مفادات کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
آخر میں انہوں نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا واقعی کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایرانی قوم کا اعتماد جیتنا ہوگا۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر امریکا جنگ کی راہ اختیار کرے گا تو ایران بھی بھرپور جواب دے گا، لیکن اگر وہ منطق، احترام اور سنجیدہ سفارت کاری کے ساتھ آگے بڑھے گا تو ایران بھی اسی انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے دنیا بارہا دیکھ چکی ہے۔


