Date:

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی معاملات کو سلجھانے اور امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے مختلف ممالک پاکستان کی سرزمین پر بیٹھ کر امن، استحکام اور عالمی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، جو ملک کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

مردان میں منعقدہ دستورِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں جو مثبت اور فعال کردار ادا کیا ہے، قوم برسوں سے اسی دن کی منتظر تھی۔

انہوں نے کہا کہ آج ان کی جدوجہد رنگ لا رہی ہے اور وہ ہمیشہ پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور بااثر اسلامی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اظہارِ خیال کیا اور اسرائیل کو عرب سرزمین پر ایک ناجائز اور دہشت گرد ریاست قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کئی دہائیوں سے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے، اس لیے ان کی جماعت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں ہرگز نہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اسرائیل کا ایران تک اثر و رسوخ بڑھانا دراصل پاکستان کے دروازے پر دستک دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام اور پوری امتِ مسلمہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے مبینہ گٹھ جوڑ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان کے مطابق امتِ مسلمہ کو اس وقت اتحاد، بصیرت اور جرات کے ساتھ اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔

ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی رہنما حالات کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں، لیکن جے یو آئی کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے وہ نہ تو اس حکومت کو جائز سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس کی پیروی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح جعلی نوٹ بازار میں نہیں چلتا، اسی طرح جعلی حکومت بھی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ ان کے بقول ملک پر ایسے لوگ مسلط کر دیے گئے ہیں جن کی عوامی حیثیت اور سیاسی قدر و قیمت نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عوام مہنگائی، بے یقینی اور بداعتمادی کا شکار ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے حقیقی عوامی نمائندوں، شفاف نظام اور قومی وحدت کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related