ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اسرائیل کو 11 ارب 50 کروڑ ڈالر سے زائد مہنگی پڑ گئی، جس کے باعث اسرائیلی معیشت پر شدید مالی دباؤ بڑھنے لگا ہے۔
اسرائیلی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ابتدائی تخمینے کے مطابق جنگی اخراجات نے سرکاری بجٹ پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے، جبکہ آئندہ مہینوں میں یہ رقم مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں پر اب تک تقریباً 11 ارب 52 کروڑ امریکی ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مجموعی رقم میں دفاعی اخراجات سب سے زیادہ ہیں، جو 7 ارب 25 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
ان دفاعی اخراجات میں جدید ہتھیاروں کا استعمال، فضائی آپریشنز، جنگی طیاروں کی پروازوں کے اوقات، ریزرو فوجیوں کی تعیناتی اور جنگ کے دوران ہونے والے مختلف نقصانات شامل ہیں۔
ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف ابتدائی تخمینہ ہیں، جنہیں پہلے ہی اسرائیل کے 2026 کے بجٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مالی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں ابھی جنگ کے بعد ہونے والی تعمیر نو، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور معیشت کی جزوی بندش سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں کیے گئے۔
اسرائیلی وزارت خزانہ نے مزید دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس سے مجموعی جنگی لاگت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ نئے فوجی محاذوں کے باعث اضافی بجٹ ناگزیر ہو گیا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے اثرات صرف فوجی میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ عام شہری بھی اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
وزارت خزانہ نے جائیداد ٹیکس کے تحت متاثرہ اسرائیلی شہریوں اور کاروباری اداروں کو معاوضے کی مد میں تقریباً 3 ارب 80 کروڑ سے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر تک ادائیگی کا تخمینہ لگایا ہے۔
اس میں ان افراد کے نقصانات شامل ہیں جن کے گھر، دکانیں، کاروبار اور دیگر املاک جنگی حالات کے باعث متاثر ہوئیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر کشیدگی مزید طول پکڑتی ہے تو اسرائیل کو نہ صرف اپنے بجٹ خسارے میں اضافہ دیکھنا پڑ سکتا ہے بلکہ مہنگائی، سرمایہ کاری میں کمی اور معاشی سست روی جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال نے اسرائیلی حکومت کو ایک مشکل مالی اور سیاسی آزمائش میں ڈال دیا ہے، جہاں جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔


