وفاقی کابینہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور برادر ملک ایران کے درمیان آج تک بالواسطہ مذاکرات ہوتے رہے، تاہم پاکستان کی درخواست پر دونوں ممالک کے وفود پاکستان آئے اور 47 برس بعد پہلی بار اعلیٰ ترین سطح پر براہِ راست بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کے سیزفائر کا اعلان کیا، جس کے بعد دونوں وفود پاکستان پہنچے۔ “اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسا موقع دیا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ یہ عزت صرف میری نہیں بلکہ پوری قوم کی عزت ہے۔”
شہباز شریف نے بتایا کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان 21 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے اور پہلی بار دونوں ممالک کے نمائندے ایک ساتھ بیٹھے۔ ان کے مطابق سیزفائر تاحال برقرار ہے، جبکہ بعض باقی ماندہ معاملات کے حل کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں امن معاہدوں اور جنگ بندیوں میں برسوں لگے، لیکن پاکستان نے بروقت سفارتی کردار ادا کرکے ایک ممکنہ بحران کو ٹالنے میں مدد دی۔ “جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، مگر پاکستان کو مستقبل کو امن میں بدلنے کا موقع ملا۔”
انہوں نے بتایا کہ عالمی رہنماؤں نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم کے مطابق جاپان کے وزیراعظم اور یورپی قیادت نے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیا۔
شہباز شریف نے فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فراست، حکمت عملی اور مسلسل کوششوں سے سیزفائر پر اتفاق ممکن ہوا۔ “بعض مواقع پر مذاکرات ٹوٹتے ٹوٹتے جڑتے رہے، مگر ہماری ٹیم نے پوری ذمہ داری اور دانشمندی سے کام لیا۔”
وزیراعظم نے مزید کہا کہ قومی مفاد اور حساس معاملات کے تحفظ کے لیے بعض تفصیلات راز میں رکھنا ضروری ہے، کیونکہ قومی راز، راز ہی رہنے چاہییں۔


