کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 869 رابطہ نمبرز برآمد ہوئے ہیں، جن میں 132 نمبرز کراچی سے تعلق رکھتے ہیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ ’’پنکی کیس‘‘ کراچی پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’دیکھ لیجیے، پنکی کا برانڈ نیم ہی آخرکار اس کے لیے پھندا ثابت ہوگا۔‘‘
پولیس چیف کے مطابق تحقیقات صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ ان افراد کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے جو ملزمہ سے منشیات لے کر مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمہ کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
آزاد خان نے انکشاف کیا کہ سچل کے علاقے میں پنکی کے پرانے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے مزید منشیات برآمد ہوئی۔ ان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ منشیات بیرونِ ملک سے کراچی لائی جاتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں اور اب تک تقریباً 3 کروڑ روپے کی مالی لین دین سامنے آئی ہے۔ پولیس چیف کے مطابق اس نیٹ ورک میں افریقی باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں جبکہ ملزمہ کچھ عرصہ پنجاب میں بھی مقیم رہی۔
کراچی پولیس چیف نے کہا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اور سائبر کرائم ونگ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ کے موبائل فون سے ملنے والے 869 نمبرز کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے اور ہر اس شخص کے خلاف کارروائی ہوگی جو اس نیٹ ورک میں ملوث پایا گیا۔


