شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کابطور رہبر انقلاب انتخاب؛ ایران میں قیادت کے تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام کا تاریخی باب

Date:

شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جون 1989 میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے طور پر انتخاب ایران کی سیاسی اور انقلابی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔یہ فیصلہ ایسے نازک مرحلے پر کیا گیا جب اسلامی انقلاب کے بانی امام روح اللہ خمینی کی رحلت کے بعد ملک کو نئی قیادت کی ضرورت درپیش تھی۔

3 جون 1989 کی شب امام خمینی کے انتقال کے بعد اگلی صبح مجلسِ خبرگانِ رہبری (ماہرین کی مجلس) کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا رہبر منتخب کر لیا گیا۔اجلاس میں شریک 74 ارکان میں سے 60 نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔

مجلسِ خبرگان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ قیادت کے تسلسل، ریاستی اداروں کے استحکام، امام خمینی کی ہدایات، اور ملک کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجوں کے پیش نظر کیا گیا تاکہ اسلامی نظام کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مجلس کے رکن آیت اللہ بنی فضل کے مطابق، جن ارکان نے امام خامنہ ای کے حق میں ووٹ نہیں دیا، ان کا اختلاف شخصیت یا اہلیت پرنہیں تھا بلکہ وہ اجتماعی قیادت کے تصور کے حامی تھے، جس میں سید علی خامنہ ای کو مرکزی کردار حاصل ہوتا۔

عوامی حمایت اور مبارکباد کے پیغامات

انتخاب کے اعلان کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات منعقد ہوئے جہاں شہریوں نے مجلسِ خبرگان کے فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا۔ اسی دوران اعلیٰ حکومتی شخصیات اور جید علماء نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مبارکباد کے پیغامات ارسال کیے۔

امام خمینی کے فرزند سید احمد خمینی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کے والدسید علی خامنہ ای کو اسلامی نظام کی قیادت کے لیے اہل مجتہد سمجھتے تھے اور ان کا انتخاب امام خمینی کے اہل خانہ اور ان کے چاہنے والوں کے لیے باعث اطمینان بنا۔

امام خمینی کے نظریات کے تسلسل کا اعلان

قیادت سنبھالنے کے بعد سید علی خامنہ ای نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ کا نیا مرحلہ امام خمینی کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا۔انہوں نے قومی اتحاد، عوام اور قیادت کے درمیان اعتماد، اسلامی نظام کی فقہی بنیادوں کے تحفظ، کمزور طبقات کی حمایت، مظلوم اقوام کی مدد اور قومی خودمختاری کے دفاع کو اپنی پالیسیوں کا بنیادی حصہ قرار دیا۔

سید علی خامنہ ای متعدد مواقع پر امام خمینی کو انقلاب کے تناور درخت کی جڑ قرار دیتے رہے اور اس عزم کا اظہار کرتے رہے کہ اسلامی جمہوریہ کا سفر انہی اصولوں پر جاری رکھا جائے گا جو اس کے بانی نے متعین کیے تھے۔

ادارہ جاتی نظام اور مشاورتی طرزِ حکمرانی

ان کے دورِ قیادت میں ریاستی امور میں ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔ مختلف شعبوں کے ماہرین، مشیروں اور مشاورتی اداروں کی آراء کو فیصلہ سازی کا حصہ بنایا گیا جبکہ سیاسی، اقتصادی، سلامتی اور ثقافتی معاملات میں مربوط حکمت عملی اختیار کی گئی۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اس عرصے میں قیادت کا ادارہ ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان عمومی پالیسیوں میں ہم آہنگی کا محور بن گیا، جبکہ آئینی اور قانونی فریم ورک کے تحت اختیارات کے توازن کو بھی برقرار رکھا گیا۔

بحرانوں کے مقابلے میں اسٹریٹجک صبر

سید علی خامنہ ای کی قیادت کے دوران ایران کو اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ، سلامتی کے خطرات اور علاقائی کشیدگی سمیت متعدد چیلنجوں کا سامنا رہا۔ ان حالات میں اختیار کی گئی حکمت عملی کو اسٹریٹجک صبر سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کے تحت فوری ردعمل کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی، تدریجی طاقت کے حصول اور بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے بدلتے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔

مبصرین کے مطابق اسی حکمت عملی نے مختلف بحرانوں کے باوجود ریاستی اداروں کے تسلسل، سیاسی استحکام اور فیصلہ سازی کے عمل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تین دہائیوں پر محیط قیادت

اپنی تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط قیادت سے لے کر شہادت تک، شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا دور ریاستی اداروں کی مضبوطی، فیصلہ سازی کے ادارہ جاتی نظام، قومی خودمختاری کے تحفظ اور طویل المدتی بحرانوں کے انتظام سے منسلک رہا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی قیادت کا نمایاں پہلو اسلامی جمہوریہ کے بنیادی اصولوں پر استقامت اور ریاستی نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوششیں تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

ایم او یو پر مکمل عملدرآمد تک مزید مذاکرات نہیں ہوں گے، باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے...