گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ، وزیراعظم شہباز شریف کی شفاف اور بروقت تکمیل کی ہدایت

Date:

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی رفتار، شفافیت اور بروقت تکمیل سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماحول دوست، صاف، سستی اور پائیدار توانائی کا فروغ حکومت کی قومی توانائی پالیسی کا اہم ستون ہے، جبکہ شمسی توانائی کے منصوبے نہ صرف توانائی کے شعبے میں انقلاب لائیں گے بلکہ ملک میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے وہاں کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ ہے، جس سے علاقے میں بجلی کی فراہمی مزید مستحکم ہوگی، توانائی کے اخراجات میں کمی آئے گی اور عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

انہوں نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے حوالے سے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی جائیں اور منصوبے کے ہر مرحلے پر شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے خاص طور پر زور دیا کہ خریداری کا عمل مکمل طور پر شفاف ہو اور تمام مالی ادائیگیاں تیسرے فریق کی توثیق (Third-Party Validation) کے بعد ہی کی جائیں تاکہ عوامی وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس کو منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں گلگت بلتستان کی 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج سمیت 18 میگاواٹ کے سولر سسٹمز دسمبر 2026 تک نصب کر دیے جائیں گے۔ اس اقدام سے سرکاری اداروں کی بجلی کی ضروریات مقامی سطح پر پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 82 میگاواٹ کے یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کے لیے ایکنک (ECNEC) کو بھجوا دیا گیا ہے۔ منصوبے کی منظوری کے بعد اس پر باقاعدہ عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔

حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ 82 میگاواٹ سولر منصوبے سے گلگت بلتستان کے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف علاقے میں بجلی کی فراہمی کا معیار بہتر ہوگا بلکہ لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے گھریلو، تجارتی اور سرکاری شعبوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی، جبکہ منصوبے پر تیز رفتار اور شفاف عملدرآمد کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

Subscribe

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related