متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔
اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق شیخ محمد بن زاید نے امریکا کی دعوت پر اس بورڈ کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق بورڈ کے چارٹر میں رکن ممالک کی زیادہ سے زیادہ مدتِ رکنیت تین سال مقرر کی گئی ہے، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔
امارات کے وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی امن منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے نہایت ضروری ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی قیادت میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔
اگرچہ ابتدا میں اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا اور دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات خطے میں امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور ان چند عرب ممالک میں شامل ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔


