وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔
خیبرپختونخوا سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا، جبکہ امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے داخلی اور خارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی اپنائی گئی ہے۔
وزیراعظم کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابلِ تحسین ہیں اور ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جس کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر صرف پنجاب ترقی کرے اور دیگر صوبے پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا، ملک اسی وقت آگے بڑھے گا جب تمام صوبے یکساں ترقی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے اپنے حصے سے بلوچستان کو 100 ارب روپے دیے، بلوچستان میں اہم سڑکوں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے جبکہ سولر ٹیوب ویلز کے منصوبے کے لیے بھی 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے دیگر صوبوں نے اپنے حصے سے 800 ارب روپے دیے، خیبرپختونخوا کے عوام نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا، تاہم 2018 میں پی ٹی آئی حکومت کے دہشتگردوں کو واپس بسانے کے فیصلے سے دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے اندر اور باہر دہشتگرد عناصر کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی، گزشتہ سال بھارت کے سات جنگی طیارے مار گرائے گئے اور آج سبز پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے اور معاشی استحکام کے باعث عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں کے دوران 40 لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، ان پر اپنے وسائل نچھاور کیے،
انہوں نے یہاں کاروبار کیے، شادیاں کیں اور ان کے بچے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم رہے، مگر اس کے باوجود پاکستان کی میزبانی کی قدر نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے تھی، مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کے باعث پاکستان کو سخت اقدامات کرنا پڑے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہمیں بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، تاہم افغان عبوری حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ امن چاہتی ہے یا نہیں، نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عہدہ سنبھالنے پر فون کر کے مبارکباد دی گئی، وزیراعلیٰ نے شکریہ ادا کیا، مگر اس کے بعد دوبارہ کوئی رابطہ نہیں ہوا۔


