سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ عدالت کے واضح اور تحریری احکامات کے باوجود سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہنوں کو اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے جیل جاتے ہوئے بار بار رکاوٹوں، بدسلوکی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میں اس بدترین، غیر انسانی سلوک اور بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
سوشل میڈیا ایکس پر جاری اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ پنجاب میں قائم فاشسٹ طرزِ حکمرانی اور اس کے پسِ پردہ موجود ہینڈلرز نے عملاً عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا ہے۔ ایک جانب عدالتوں کے فیصلوں کا کھلے عام مذاق اڑایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب نہتے اور پرامن شہریوں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔
یہ طرزِ عمل کسی جمہوری ریاست کا نہیں بلکہ جنگل کے قانون کی عکاسی کرتا ہے، جہاں طاقت ہی حق بن جاتی ہے اور قانون محض ایک نمائشی نعرہ رہ جاتا ہے۔
انھوں نے کہاکہ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ نفرت، تقسیم اور جبر کی سیاست کو باقاعدہ ریاستی پالیسی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جو قوتیں معاشروں میں نفرت کے بیج بوتی ہیں، وہ کبھی ملک و ملت کی وفادار نہیں ہو سکتیں،ایسے رویّے نہ ریاست کو مضبوط کرتے ہیں اور نہ ہی اداروں کا وقار قائم رکھتے ہیں، بلکہ پورے معاشرے کو تقسیم، انتشار اور عدم اعتماد کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔
ریاست کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے زور پر خاموشی تو وقتی طور پر مسلط کی جا سکتی ہے، مگر سچ، حق اور انصاف کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا،پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کا غیر مشروط احترام ہے،اس کے بغیر ریاست ایک منصفانہ نظام کے بجائے محض جبر کی علامت بن کر رہ جاتی ہے۔


